پاک-بھارت حالیہ جنگی دور: ایک جائزہ
پاک-بھارت حالیہ جنگی دور: ایک جائزہ
پاکستان اور بھارت کے تعلقات شروع سے ہی کشیدہ رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں یہ کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگرچہ 1971 کے بعد کوئی باقاعدہ جنگ نہیں ہوئی، لیکن دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے اور سفارتی محاذ آرائیاں ایک "نیم جنگی دور" کی نشاندہی کرتی ہیں۔ خاص طور پر 2019 کا پلوامہ-بالاکوٹ واقعہ اس حالیہ دور کا سب سے اہم اور سنگین واقعہ سمجھا جاتا ہے۔
1. پلوامہ حملہ اور بالاکوٹ ایئراسٹرائیک (2019)
- 14 فروری 2019 کو پلوامہ (مقبوضہ کشمیر) میں ایک خودکش حملے میں 40 بھارتی سکیورٹی اہلکار مارے گئے۔ بھارت نے اس کا الزام پاکستان میں قائم تنظیم جیش محمد پر عائد کیا۔
- 26 فروری 2019 کو بھارت نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کیا، جسے ایک "سرجیکل اسٹرائیک" قرار دیا گیا۔
- 27 فروری 2019 کو پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کیا، ایک بھارتی MiG-21 طیارہ مار گرایا، اور پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا، جسے بعد ازاں خیرسگالی کے طور پر واپس کر دیا گیا۔
یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا، اور دنیا کو خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ کہیں یہ تصادم ایٹمی جنگ کی طرف نہ بڑھ جائے۔
2. 2021 کا جنگ بندی معاہدہ
- فروری 2021 میں دونوں ممالک نے 2003 کی لائن آف کنٹرول (LoC) پر جنگ بندی کی توثیق کی۔ اس کے بعد کچھ عرصے کے لیے گولہ باری میں واضح کمی دیکھنے کو ملی، لیکن کشیدگی بدستور موجود رہی۔
3. اسٹریٹجک اور سفارتی محاذ
- بھارت نے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، جس پر پاکستان نے شدید ردعمل دیا اور سفارتی تعلقات محدود کر دیے۔
- سندھ طاس معاہدے پر بھی دونوں ممالک کے درمیان تنازع شدت اختیار کر چکا ہے، بھارت کے نئے آبی منصوبے پاکستان کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
- بھارت نے رافیل طیارے حاصل کیے، جبکہ پاکستان نے JF-17 تھنڈر کو اپ گریڈ کیا اور چین سے جدید ڈرونز بھی حاصل کیے۔
4. ہائبرڈ اور سائبر وار کا خطرہ
آج کی جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ سائبر اسپیس، میڈیا اور معیشت کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے:
- جعلی خبریں، پراپیگنڈا مہمات، اور سائبر حملے اب معمول بن چکے ہیں۔
- دونوں ممالک اپنی الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں کو بڑھا رہے ہیں، جو مستقبل میں نئی نوعیت کی جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
نتیجہ: امن کی نازک ڈور
اگرچہ مکمل جنگ کا خطرہ فی الحال ٹلا ہوا ہے، لیکن پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدہ اور غیر مستحکم ہیں۔ کسی بھی وقت ایک چھوٹا واقعہ بڑے تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، اس لیے دنیا بار بار ان سے مذاکرات اور تحمل کی اپیل کرتی ہے۔
یہ وقت ہے کہ دونوں ممالک عقل، برداشت اور سفارتکاری سے کام لیں، تاکہ خطہ جنگ کی نہیں، بلکہ ترقی اور امن کی طرف بڑھے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس موضوع پر ٹائم لائن، فوجی موازنہ یا ممکنہ مستقبل کی جنگی صورتحال پر بھی مواد فراہم کر سکتا ہوں۔

Comments
Post a Comment